EN हिंदी
عتیق اللہ شیاری | شیح شیری

عتیق اللہ شیر

27 شیر

ترے فلک ہی سے ٹوٹنے والی روشنی کے ہیں عکس سارے
کہیں کہیں جو چمک رہے ہیں حروف میری عبارتوں میں

عتیق اللہ




کچھ بدن کی زبان کہتی تھی
آنسوؤں کی زبان میں تھا کچھ

عتیق اللہ




لمس کی شدتیں محفوظ کہاں رہتی ہیں
جب وہ آتا ہے کئی فاصلے کر جاتا ہے

عتیق اللہ




مجھ میں خود میری عدم موجودگی شامل رہی
ورنہ اس ماحول میں جینا بڑا دشوار تھا

عتیق اللہ




پانی تھا مگر اپنے ہی دریا سے جدا تھا
چڑھتے ہوئے دیکھا نہ اترتے ہوئے دیکھا

عتیق اللہ




ریل کی پٹری نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے
آپ اپنی ذات سے اس کو بہت انکار تھا

عتیق اللہ




سفر گرفتہ رہے کشتگان نان و نمک
ہمارے حق میں کوئی فیصلہ نہ کرتا تھا

عتیق اللہ




یہ راہ طلب یارو گمراہ بھی کرتی ہے
سامان اسی کا تھا جو بے سر و ساماں تھا

عتیق اللہ




یہ دیکھا جائے وہ کتنے قریب آتا ہے
پھر اس کے بعد ہی انکار کر کے دیکھا جائے

عتیق اللہ