EN हिंदी
عرش ملسیانی شیاری | شیح شیری

عرش ملسیانی شیر

23 شیر

خشک باتوں میں کہاں ہے شیخ کیف زندگی
وہ تو پی کر ہی ملے گا جو مزا پینے میں ہے

o priest where is the pleasure in this world when dry and sere
tis only when one drinks will then the joy truly appea

عرش ملسیانی




جتنی وہ مرے حال پہ کرتے ہیں جفائیں
آتا ہے مجھے ان کی محبت کا یقیں اور

More the cruelty from her that I receive
more in her affection for me do I believe

عرش ملسیانی




اس انتہائے ترک محبت کے باوجود
ہم نے لیا ہے نام تمہارا کبھی کبھی

عرش ملسیانی




عرشؔ کس دوست کو اپنا سمجھوں
سب کے سب دوست ہیں دشمن کی طرف

عرش ملسیانی




حسن ہر حال میں ہے حسن پراگندہ نقاب
کوئی پردہ ہے نہ چلمن یہ کوئی کیا جانے

عرش ملسیانی




ہے دیکھنے والوں کو سنبھلنے کا اشارا
تھوڑی سی نقاب آج وہ سرکائے ہوئے ہیں

عرش ملسیانی




ہے دیکھنے والوں کو سنبھلنے کا اشارہ
تھوڑی سی نقاب آج وہ سرکائے ہوئے ہیں

عرش ملسیانی




فرشتے کو مرے نالے یوں ہی بد نام کرتے ہیں
مرے اعمال لکھتی ہیں مری قسمت کی تحریریں

عرش ملسیانی




دئے جلائے امیدوں نے دل کے گرد بہت
کسی طرف سے نہ اس گھر میں روشنی آئی

عرش ملسیانی