EN हिंदी
خفا شیاری | شیح شیری

خفا

23 شیر

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا
اے سنگ دل تجھے بھی خبر ہے کہ کیا ہوا

عرش صدیقی




اتنا تو بتا جاؤ خفا ہونے سے پہلے
وہ کیا کریں جو تم سے خفا ہو نہیں سکتے

اسد بھوپالی




جانے کیوں ان سے ملتے رہتے ہیں
خوش وہ کیا ہوں گے جب خفا ہی نہیں

باقر مہدی




چھیڑا ہے دست شوق نے مجھ سے خفا ہیں وہ
گویا کہ اپنے دل پہ مجھے اختیار ہے

حسرتؔ موہانی




حسن یوں عشق سے ناراض ہے اب
پھول خوشبو سے خفا ہو جیسے

افتخار اعظمی




لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے
تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے

جاں نثاراختر




وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیا
مجھے کیا امیدیں تھیں کیا ہو گیا

جگت موہن لال رواںؔ