EN हिंदी
دوم شیاری | شیح شیری

دوم

68 شیر

دنیا تو سیدھی ہے لیکن دنیا والے
جھوٹی سچی کہہ کے اسے بہکاتے ہوں گے

کالی داس گپتا رضا




ہم کہ اپنی راہ کا پتھر سمجھتے ہیں اسے
ہم سے جانے کس لیے دنیا نہ ٹھکرائی گئی

خورشید رضوی




دنیا بہت خراب ہے جائے گزر نہیں
بستر اٹھاؤ رہنے کے قابل یہ گھر نہیں

لالہ مادھو رام جوہر




دیکھو دنیا ہے دل ہے
اپنی اپنی منزل ہے

محبوب خزاں




کوئی دن اور غم ہجر میں شاداں ہو لیں
ابھی کچھ دن میں سمجھ جائیں گے دنیا کیا ہے

محمود ایاز




دنیا ہے سنبھل کے دل لگانا
یاں لوگ عجب عجب ملیں گے

میر حسن




لائی ہے کہاں مجھ کو طبیعت کی دو رنگی
دنیا کا طلب گار بھی دنیا سے خفا بھی

مدحت الاختر