EN हिंदी
احسان شیاری | شیح شیری

احسان

75 شیر

یوں چرائیں اس نے آنکھیں سادگی تو دیکھیے
بزم میں گویا مری جانب اشارا کر دیا

فانی بدایونی




آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے
اک شرح حیات ہو گئی ہے

فراق گورکھپوری




جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے
وہ دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں

فراق گورکھپوری




آنکھوں سے آنسوؤں کے مراسم پرانے ہیں
مہماں یہ گھر میں آئیں تو چبھتا نہیں دھواں

گلزار




آنکھ کمبخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا
ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر

حفیظ جالندھری




آنکھیں نہ جینے دیں گی تری بے وفا مجھے
کیوں کھڑکیوں سے جھانک رہی ہے قضا مجھے

امداد علی بحر




کوئی سمجھائے کہ کیا رنگ ہے میخانے کا
آنکھ ساقی کی اٹھے نام ہو پیمانے کا

اقبال صفی پوری