EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ذہن کی آوارگی کو بھی پناہیں چاہیئے
یوں نہ شمعوں کو کسی دہلیز پر رکھ کر بجھا

فاروق شفق




اپنے ہی فن کی آگ میں جلتے رہے شمیمؔ
ہونٹوں پہ سب کے حوصلہ افزائی رہ گئی

فاروق شمیم




دھوپ چھوتی ہے بدن کو جب شمیمؔ
برف کے سورج پگھل جاتے ہیں کیوں

فاروق شمیم




ہیں راکھ راکھ مگر آج تک نہیں بکھرے
کہو ہوا سے ہماری مثال لے آئے

فاروق شمیم




حصار ذات سے کٹ کر تو جی نہیں سکتے
بھنور کی زد سے یوں محفوظ اپنی ناؤ نہ رکھ

فاروق شمیم




جھوٹ سچ میں کوئی پہچان کرے بھی کیسے
جو حقیقت کا ہی معیار فسانہ ٹھہرا

فاروق شمیم




وقت اک موج ہے آتا ہے گزر جاتا ہے
ڈوب جاتے ہیں جو لمحات ابھرتے کب ہیں

فاروق شمیم