EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

منت چارہ ساز کون کرے
درد جب جاں نواز ہو جائے

فیض احمد فیض




مری چشم تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے
بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی

فیض احمد فیض




مری جان آج کا غم نہ کر کہ نہ جانے کاتب وقت نے
کسی اپنے کل میں بھی بھول کر کہیں لکھ رکھی ہوں مسرتیں

فیض احمد فیض




نہ گل کھلے ہیں نہ ان سے ملے نہ مے پی ہے
عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے

فیض احمد فیض




نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں
اک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں

فیض احمد فیض




نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

فیض احمد فیض




نہیں شکایت ہجراں کہ اس وسیلے سے
ہم ان سے رشتۂ دل استوار کرتے رہے

فیض احمد فیض