EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے

فیض احمد فیض




کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا

فیض احمد فیض




کٹتے بھی چلو بڑھتے بھی چلو بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت
چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے

فیض احمد فیض




خیر دوزخ میں مے ملے نہ ملے
شیخ صاحب سے جاں تو چھوٹے گی

فیض احمد فیض




مے خانہ سلامت ہے تو ہم سرخیٔ مے سے
تزئین در و بام حرم کرتے رہیں گے

فیض احمد فیض




مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

فیض احمد فیض




میری خاموشیوں میں لرزاں ہے
میرے نالوں کی گم شدہ آواز

فیض احمد فیض