EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

منہ باندھ کر کلی سا نہ رہ میرے پاس تو
خنداں ہو کر کے گل کی صفت ٹک سخن میں آ

فائز دہلوی




مجھ کو اوروں سے کچھ نہیں ہے کام
تجھ سے ہر دم امیدواری ہے

فائز دہلوی




تیرے ملاپ بن نہیں فائزؔ کے دل کو چین
جیوں روح ہو بسا ہے تو اس کے بدن میں آ

فائز دہلوی




تجھ بدن پر جو لال ساری ہے
عقل اس نے مری بساری ہے

فائز دہلوی




وہ تماشا و کھیل ہولی کا
سب کے تن رخت کیسری ہے یاد

فائز دہلوی




بند کمرے میں ترا درد نہ بجھ جائے کہیں
کھڑکیاں کھول کہ یہ آگ ہوا چاہتی ہے

فہیم جوگاپوری




ہم اہل غم کو حقارت سے دیکھنے والو
تمہاری ناؤ انہیں آنسوؤں سے چلتی ہے

فہیم جوگاپوری