EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

گڑ سیں میٹھا ہے بوسہ تجھ لب کا
اس جلیبی میں قند و شکر ہے

فائز دہلوی




گڑ سے میٹھا ہے بوسہ تجھ لب کا
اس جلیبی میں قند و شکر ہے

فائز دہلوی




حسن بے ساختہ بھاتا ہے مجھے
سرمہ انکھیاں میں لگایا نہ کرو

فائز دہلوی




جب سجیلے خرام کرتے ہیں
ہر طرف قتل عام کرتے ہیں

فائز دہلوی




خاک سیتی سجن اٹھا کے کیا
عشق تیرے نے سر بلند مجھے

فائز دہلوی




خوب رو آشنا ہیں فائزؔ کے
مل سبھی رام رام کرتے ہیں

فائز دہلوی




میں گرفتار ہوں ترے مکھ پر
جگ میں نئی اور کچھ پسند مجھے

فائز دہلوی