EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پتھر نہ بنا دے مجھے موسم کی یہ سختی
مر جائیں مرے خواب نہ تعبیر کے ڈر سے

ڈاکٹر پنہاں




یہ دل عجیب ہے اکثر کمال کرتا ہے
جواب جن کا نہیں وہ سوال کرتا ہے

ڈاکٹر پنہاں




اب تو اس تالاب کا پانی بدل دو
یہ کنول کے پھول کمہلانے لگے ہیں

دشینتؔ کمار




ایک قبرستان میں گھر مل رہا ہے
جس میں تہہ خانوں سے تہہ خانے لگے ہیں

دشینتؔ کمار




ہو گئی ہے پیر پروت سی پگھلنی چاہئے
اس ہمالے سے کوئی گنگا نکلنی چاہئے

دشینتؔ کمار




کہاں تو طے تھا چراغاں ہر ایک گھر کے لیے
کہاں چراغ میسر نہیں شہر کے لیے

دشینتؔ کمار




کیسے آکاش میں سوراخ نہیں ہو سکتا
ایک پتھر تو طبیعت سے اچھالو یارو

دشینتؔ کمار