EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

رقم کرنے کوں وصف زلف دل دار
مجھے ہر وقت مشق لام ہے بس

داؤد اورنگ آبادی




سر کاٹ کیوں جلاتے ہیں روشن دلاں کے تئیں
آہن دلی پہ خلق کی خنداں ہوں مثل شمع

داؤد اورنگ آبادی




شیشۂ آبرو سنبھال اے دل
دور الٹا چلا ہے دنیا کا

داؤد اورنگ آبادی




سن نصیحت مری اے زاہد خشک
اشک کے آب بن وضو مت کر

داؤد اورنگ آبادی




تجھ ہجر کی اگن کوں بوجھانے اے سنگ دل
کوئی آب زن رفیق بجز چشم تر نہیں

داؤد اورنگ آبادی




یک قدم راہ دوست ہے داؤدؔ
لیکن افسوس پائے بخت ہے لنگ

داؤد اورنگ آبادی




یا رب تو مجھے میرے گناہوں کی سزا دے
یا مجھ کو گناہوں کے لیے اپنی رضا دے

دپتی مشرا