EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تم سے اب کیا کہیں وہ چیز ہے داغ غم عشق
کہ چھپائے نہ چھپے اور دکھائے نہ بنے

دتا تریہ کیفی




وفا پر دغا صلح میں دشمنی ہے
بھلائی کا ہرگز زمانہ نہیں ہے

دتا تریہ کیفی




یا الٰہی مجھ کو یہ کیا ہو گیا
دوستی کا تیری سودا ہو گیا

دتا تریہ کیفی




دیکھنا ہے پیا کی زلف دراز
یا الٰہی مجھے دے عمر دراز

داؤد اورنگ آبادی




دیا اس خوش نین نے رات کوں مجھ کوں سراغ اپنا
کیا میں روغن بادام سوں روشن چراغ اپنا

داؤد اورنگ آبادی




ہر کتاب صحبت رنگیں کے معنی دیکھ کر
فرد تنہائی کے مضموں کوں کیا ہوں انتخاب

داؤد اورنگ آبادی




پیو بنا دل مرا اداسی ہے
گاہ جوگی ہے گاہ سنیاسی ہے

داؤد اورنگ آبادی