وہ دن گئے کہ داغؔ تھی ہر دم بتوں کی یاد
پڑھتے ہیں پانچ وقت کی اب تو نماز ہم
داغؔ دہلوی
وہ جاتے ہیں آتی ہے قیامت کی سحر آج
روتا ہے دعاؤں سے گلے مل کے اثر آج
داغؔ دہلوی
وہ جب چلے تو قیامت بپا تھی چاروں طرف
ٹھہر گئے تو زمانے کو انقلاب نہ تھا
داغؔ دہلوی
وہ کہتے ہیں کیا زور اٹھاؤ گے تم اے داغؔ
تم سے تو مرا ناز اٹھایا نہیں جاتا
داغؔ دہلوی
وہ زمانا بھی تمہیں یاد ہے تم کہتے تھے
دوست دنیا میں نہیں داغؔ سے بہتر اپنا
داغؔ دہلوی
یہ گستاخی یہ چھیڑ اچھی نہیں ہے اے دل ناداں
ابھی پھر روٹھ جائیں گے ابھی تو من کے بیٹھے ہیں
داغؔ دہلوی
یہ مزہ تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی
نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا
داغؔ دہلوی

