شرکت غم بھی نہیں چاہتی غیرت میری
غیر کی ہو کے رہے یا شب فرقت میری
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
شوخی سے ٹھہرتی نہیں قاتل کی نظر آج
یہ برق بلا دیکھیے گرتی ہے کدھر آج
داغؔ دہلوی
ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا
تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں کمی نہ کرنا
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| التجا |
| 2 لائنیں شیری |
سن کے مرا فسانہ انہیں لطف آ گیا
سنتا ہوں اب کہ روز طلب قصہ خواں کی ہے
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سنائی جاتی ہیں در پردہ گالیاں مجھ کو
کہوں جو میں تو کہے آپ سے کلام نہیں
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
طبیعت کوئی دن میں بھر جائے گی
چڑھی ہے یہ ندی اتر جائے گی
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تدبیر سے قسمت کی برائی نہیں جاتی
بگڑی ہوئی تقدیر بنائی نہیں جاتی
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| قسط |
| 2 لائنیں شیری |

