EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں
تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں

داغؔ دہلوی




ٹھوکر بھی راہ عشق میں کھانی ضرور ہے
چلتا نہیں ہوں راہ کو ہموار دیکھ کر

داغؔ دہلوی




تم اگر اپنی گوں کے ہو معشوق
اپنے مطلب کے یار ہم بھی ہیں

داغؔ دہلوی




تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام
تم سنوارا کرو بیٹھے ہوئے گیسو اپنے

داغؔ دہلوی




تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کو
دوسرا کوئی تو اپنا سا دکھا دو مجھ کو

داغؔ دہلوی




تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا
وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا

داغؔ دہلوی




اڑ گئی یوں وفا زمانے سے
کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

داغؔ دہلوی