EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ضد ہر اک بات پر نہیں اچھی
دوست کی دوست مان لیتے ہیں

داغؔ دہلوی




زیست سے تنگ ہو اے داغؔ تو جیتے کیوں ہو
جان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں

داغؔ دہلوی




ذکر مہر و وفا تو ہم کرتے
پر تمہیں شرمسار کون کرے

داغؔ دہلوی




ایک دن نقش قدم پر مرے بن جائے گی راہ
آج صحرا میں تو تنہا ہوں کہیں کوئی نہیں

دامودر ٹھاکر ذکی




عشق کی راہوں میں آیا ہے اک ایسا بھی مقام
صرف اک میں ہوں وہاں اہل زمیں کوئی نہیں

دامودر ٹھاکر ذکی




آخری وقت تلک ساتھ اندھیروں نے دیا
راس آتے نہیں دنیا کے اجالے مجھ کو

دانشؔ علیگڑھی




اپنے دشمن کو بھی خود بڑھ کے لگا لو سینے
بات بگڑی ہوئی اس طرح بنا لی جائے

دانشؔ علیگڑھی