EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ادھر شرم حائل ادھر خوف مانع
نہ وہ دیکھتے ہیں نہ ہم دیکھتے ہیں

داغؔ دہلوی




ان کی فرمائش نئی دن رات ہے
اور تھوڑی سی مری اوقات ہے

داغؔ دہلوی




اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

داغؔ دہلوی




عذر ان کی زبان سے نکلا
تیر گویا کمان سے نکلا

داغؔ دہلوی




وعدہ جھوٹا کر لیا چلئے تسلی ہو گئی
ہے ذرا سی بات خوش کرنا دل ناشاد کا

داغؔ دہلوی




واعظ بڑا مزا ہو اگر یوں عذاب ہو
دوزخ میں پاؤں ہاتھ میں جام شراب ہو

داغؔ دہلوی




وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

داغؔ دہلوی