گر ترنم پر ہی دانشؔ منحصر ہے شاعری
پھر تو دنیا بھر کے شاعر نغمہ خواں ہو جائیں گے
دانشؔ علیگڑھی
ہو کے مجبور یہ بچوں کو سبق دینا ہے
اب قلم چھوڑ کے تلوار اٹھا لی جائے
دانشؔ علیگڑھی
مسکرا کر ان کا ملنا اور بچھڑنا روٹھ کر
بس یہی دو لفظ اک دن داستاں ہو جائیں گے
دانشؔ علیگڑھی
روداد شب غم یوں ڈرتا ہوں سنانے سے
محفل میں کہیں ان کی صورت نہ اتر جائے
دانشؔ علیگڑھی
تیرے فراق نے کی زندگی عطا مجھ کو
تیرا وصال جو ملتا تو مر گیا ہوتا
دانشؔ علیگڑھی
ذرے ذرے میں مہک پیار کی ڈالی جائے
بو تعصب کی ہر اک دل سے نکالی جائے
دانشؔ علیگڑھی
آخر جسم بھی دیواروں کو سونپ گئے
دروازوں میں آنکھیں دھرنے والے لوگ
دانیال طریر

