EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نا امیدی ہے بری چیز مگر
ایک تسکین سی ہو جاتی ہے

بسمل سعیدی




نا امیدی ہے بری چیز مگر
ایک تسکین سی ہو جاتی ہے

بسمل سعیدی




رو رہا ہوں آج میں سارے جہاں کے سامنے
روئے گا کل دیکھنا سارا جہاں میرے لیے

بسمل سعیدی




سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے
ہر در پہ جو جھک جائے اسے سر نہیں کہتے

بسمل سعیدی




سکوں نصیب ہوا ہو کبھی جو تیرے بغیر
خدا کرے کہ مجھے تو کبھی نصیب نہ ہو

بسمل سعیدی




ٹھوکر کسی پتھر سے اگر کھائی ہے میں نے
منزل کا نشاں بھی اسی پتھر سے ملا ہے

بسمل سعیدی




تم جب آتے ہو تو جانے کے لیے آتے ہو
اب جو آ کر تمہیں جانا ہو تو آنا بھی نہیں

بسمل سعیدی