زمانہ سازیوں سے میں ہمیشہ دور رہتا ہیں
مجھے ہر شخص کے دل میں اتر جانا نہیں آتا
بسمل سعیدی
نفرت سے بچا کر تو الفت کو سجا دل میں
پیغام محبت کا ہر بار دیئے جانا
ببلس ھورہ صبا
اپنے سارے راستے اندر کی جانب موڑ کر
منزلوں کا اک نشاں باہر بنانا چاہئے
بشریٰ اعجاز
جب راکھ سے اٹھے گا کبھی عشق کا شعلہ
پھر پائے گی یہ خاک شفا اور طرح کی
بشریٰ اعجاز
مرے نکتہ داں ترا فہم اپنی مثال ہے
میں ہوں ایک سادہ سوال کوئی جواب دے
بشریٰ اعجاز
مری اپنی اور اس کی آرزو میں فرق یہ تھا
مجھے بس وہ اسے سارا زمانہ چاہئے تھا
بشریٰ اعجاز
شب بھی ہے وہی ہم بھی وہی تم بھی وہی ہو
ہے اب کے مگر اپنی سزا اور طرح کی
بشریٰ اعجاز

