EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

زمانہ سازیوں سے میں ہمیشہ دور رہتا ہیں
مجھے ہر شخص کے دل میں اتر جانا نہیں آتا

بسمل سعیدی




نفرت سے بچا کر تو الفت کو سجا دل میں
پیغام محبت کا ہر بار دیئے جانا

ببلس ھورہ صبا




اپنے سارے راستے اندر کی جانب موڑ کر
منزلوں کا اک نشاں باہر بنانا چاہئے

بشریٰ اعجاز




جب راکھ سے اٹھے گا کبھی عشق کا شعلہ
پھر پائے گی یہ خاک شفا اور طرح کی

بشریٰ اعجاز




مرے نکتہ داں ترا فہم اپنی مثال ہے
میں ہوں ایک سادہ سوال کوئی جواب دے

بشریٰ اعجاز




مری اپنی اور اس کی آرزو میں فرق یہ تھا
مجھے بس وہ اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

بشریٰ اعجاز




شب بھی ہے وہی ہم بھی وہی تم بھی وہی ہو
ہے اب کے مگر اپنی سزا اور طرح کی

بشریٰ اعجاز