EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس طرح کچھ بدل گئی ہے زمیں
ہم کو اب خوف آسماں نہ رہا

باقر مہدی




جانے کن مشکلوں سے جیتے ہیں
کیا کریں کوئی مہرباں نہ رہا

باقر مہدی




جانے کیوں ان سے ملتے رہتے ہیں
خوش وہ کیا ہوں گے جب خفا ہی نہیں

باقر مہدی




کافری عشق کا شیوہ ہے مگر تیرے لیے
اس نئے دور میں ہم پھر سے مسلماں ہوں گے

باقر مہدی




کبھی تو بھول گئے پی کے نام تک ان کا
کبھی وہ یاد جو آئے تو پھر پیا نہ گیا

باقر مہدی




میرے صنم کدے میں کئی اور بت بھی ہیں
اک میری زندگی کے تمہیں راز داں نہیں

باقر مہدی




مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے
میں تنہا آدمی کی دوستی ہوں

باقر مہدی