قافلے خود سنبھل سنبھل کے بڑھے
جب کوئی میر کارواں نہ رہا
باقر مہدی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سیلاب زندگی کے سہارے بڑھے چلو
ساحل پہ رہنے والوں کا نام و نشاں نہیں
باقر مہدی
ٹیگز:
| تعظیم |
| 2 لائنیں شیری |
یہ کس جگہ پہ قدم رک گئے ہیں کیا کہیے
کہ منزلوں کے نشاں تک مٹا کے بیٹھے ہیں
باقر مہدی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یہ سوچ کر تری محفل سے ہم چلے آئے
کہ ایک بار تو بڑھ جائے حوصلہ دل کا
باقر مہدی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اے عشق تو ہر چند مرا دشمن جاں ہو
مرنے کا نہیں نام کا میں اپنے بقاؔ ہوں
بقا اللہ بقاؔ
ٹیگز:
| اشق |
| 2 لائنیں شیری |
اپنی مرضی تو یہ ہے بندۂ بت ہو رہیے
آگے مرضی ہے خدا کی سو خدا ہی جانے
بقا اللہ بقاؔ
ٹیگز:
| لیکن |
| 2 لائنیں شیری |
بانگ تکبیر تو ایسی ہے بقاؔ سینہ خراش
انگلیاں آپ موذن نے دھریں کان کے بیچ
بقا اللہ بقاؔ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

