EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

قافلے خود سنبھل سنبھل کے بڑھے
جب کوئی میر کارواں نہ رہا

باقر مہدی




سیلاب زندگی کے سہارے بڑھے چلو
ساحل پہ رہنے والوں کا نام و نشاں نہیں

باقر مہدی




یہ کس جگہ پہ قدم رک گئے ہیں کیا کہیے
کہ منزلوں کے نشاں تک مٹا کے بیٹھے ہیں

باقر مہدی




یہ سوچ کر تری محفل سے ہم چلے آئے
کہ ایک بار تو بڑھ جائے حوصلہ دل کا

باقر مہدی




اے عشق تو ہر چند مرا دشمن جاں ہو
مرنے کا نہیں نام کا میں اپنے بقاؔ ہوں

بقا اللہ بقاؔ




اپنی مرضی تو یہ ہے بندۂ بت ہو رہیے
آگے مرضی ہے خدا کی سو خدا ہی جانے

بقا اللہ بقاؔ




بانگ تکبیر تو ایسی ہے بقاؔ سینہ خراش
انگلیاں آپ موذن نے دھریں کان کے بیچ

بقا اللہ بقاؔ