EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دیکھتے دیکھتے ستم تیرا
سخت ناشاد ہو گیا ہے دل

باقر آگاہ ویلوری




کیا فائدہ ہے قصۂ رضوان سے تجھے
کوئی شمع رو پری ستے تو بھی لگن لگا

باقر آگاہ ویلوری




کیا خوب میرے بخت کی منڈوے چڑھی ہے بیل
نا باغ نہ بہار نہ کانٹا نا پھول ہوں

باقر آگاہ ویلوری




میں تیرے ہجر میں جینے سے ہو گیا تھا اداس
پہ گرم جوشی سے کیا کیا منایا اشک مرا

باقر آگاہ ویلوری




سر سوداؔ پہ ترے شعر رسا سے آگاہؔ
سلسلہ حشر کا برپا نہ ہوا تھا سو ہوا

باقر آگاہ ویلوری




آئینہ کیا کس کو دکھاتا گلی گلی حیرت بکتی تھی
نقاروں کا شور تھا ہر سو سچے سب اور جھوٹا میں

باقر مہدی




آزما لو کہ دل کو چین آئے
یہ نہ کہنا کہیں وفا ہی نہیں

باقر مہدی