EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ایسی بیگانگی نہیں دیکھی
اب کسی کا کوئی یہاں نہ رہا

باقر مہدی




چلے تو جاتے ہو روٹھے ہوئے مگر سن لو
ہر ایک موڑ پہ کوئی تمہیں صدا دے گا

باقر مہدی




دامن صبر کے ہر تار سے اٹھتا ہے دھواں
اور ہر زخم پہ ہنگامہ اٹھا آج بھی ہے

باقر مہدی




ایک طوفاں کی طرح کب سے کنارہ کش ہے
پھر بھی باقرؔ مری نظروں میں بھرم ہے اس کا

باقر مہدی




فاصلے ایسے کہ اک عمر میں طے ہو نہ سکیں
قربتیں ایسی کہ خود مجھ میں جنم ہے اس کا

باقر مہدی




ہم ملیں یا نہ ملیں پھر بھی کبھی خوابوں میں
مسکراتی ہوئی آئیں گی ہماری باتیں

باقر مہدی




اس شہر میں ہے کون ہمارا ترے سوا
یہ کیا کہ تو بھی اپنا کبھی ہمنوا نہ ہو

باقر مہدی