EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

روز معمورۂ دنیا میں خرابی ہے ظفرؔ
ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا

بہادر شاہ ظفر




سب مٹا دیں دل سے ہیں جتنی کہ اس میں خواہشیں
گر ہمیں معلوم ہو کچھ اس کی خواہش اور ہے

بہادر شاہ ظفر




سہم کر اے ظفرؔ اس شوخ کماندار سے کہہ
کھینچ کر دیکھ مرے سینے سے تو تیر نہ توڑ

بہادر شاہ ظفر




تمنا ہے یہ دل میں جب تلک ہے دم میں دم اپنے
ظفرؔ منہ سے ہمارے نام اس کا دم بہ دم نکلے

بہادر شاہ ظفر




تو کہیں ہو دل دیوانہ وہاں پہنچے گا
شمع ہوگی جہاں پروانہ وہاں پہنچے گا

بہادر شاہ ظفر




یاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میں
وہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور

بہادر شاہ ظفر




یار تھا گلزار تھا باد صبا تھی میں نہ تھا
لائق پابوس جاناں کیا حنا تھی میں نہ تھا

بہادر شاہ ظفر