میں ہی غمگین نہیں ترک تعلق پہ کمالؔ
وہ بھی ناشاد تھا اس کو بھی فسردہ دیکھا
باغ حسین کمال
اے وائے انقلاب زمانے کے جور سے
دلی ظفرؔ کے ہاتھ سے پل میں نکل گئی
بہادر شاہ ظفر
اوروں کے بل پہ بل نہ کر اتنا نہ چل نکل
بل ہے تو بل کے بل پہ تو کچھ اپنے بل کے چل
بہادر شاہ ظفر
بنایا اے ظفرؔ خالق نے کب انسان سے بہتر
ملک کو دیو کو جن کو پری کو حور و غلماں کو
بہادر شاہ ظفر
بے خودی میں لے لیا بوسہ خطا کیجے معاف
یہ دل بیتاب کی ساری خطا تھی میں نہ تھا
بہادر شاہ ظفر
برائی یا بھلائی گو ہے اپنے واسطے لیکن
کسی کو کیوں کہیں ہم بد کہ بدگوئی سے کیا حاصل
بہادر شاہ ظفر
بت پرستی جس سے ہووے حق پرستی اے ظفرؔ
کیا کہوں تجھ سے کہ وہ طرز پرستش اور ہے
بہادر شاہ ظفر

