EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کوئی رسوا کوئی سودائی ہے
اک جہاں آپ کا شیدائی ہے

عزیز حیدرآبادی




مشکل ہے امتیاز عذاب و ثواب میں
پیتا ہوں میں شراب ملا کر گلاب میں

عزیز حیدرآبادی




نالے ہیں نہ آہیں ہیں نہ رونا نہ تڑپنا
بے خود ہوں تری یاد میں فرصت کے دن آئے

عزیز حیدرآبادی




نسریں میں یہ مہک ہے نہ یہ نسترن میں ہے
بوئے گل مراد ترے پیرہن میں ہے

عزیز حیدرآبادی




شیشے کھلے نہیں ابھی ساغر چلے نہیں
اڑنے لگی پری کی طرح بو شراب کی

عزیز حیدرآبادی




صحبت غیر سے بچئے بچئے
دیکھیے دیکھیے رسوائی ہے

عزیز حیدرآبادی




اس نے سن کر بات میری ٹال دی
الجھنوں میں اور الجھن ڈال دی

عزیز حیدرآبادی