وہ ابر گھرا جھوم کے رحمت کے دن آئے
پینے کے پلانے کے مسرت کے دن آئے
عزیز حیدرآبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
وہ سنیں یا نہ سنیں نالہ و فریاد عزیزؔ
آپ ہرگز نہ کریں ترک تقاضا اپنا
عزیز حیدرآبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
وہ یہ کہہ کر داغ دیتے ہیں مجھے
پھول سے پہلے ثمر آتے نہیں
عزیز حیدرآبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
زور قسمت پہ چل نہیں سکتا
خامشی اختیار کرتا ہوں
عزیز حیدرآبادی
آئینہ چھوڑ کے دیکھا کئے صورت میری
دل مضطر نے مرے ان کو سنورنے نہ دیا
عزیز لکھنوی
آپ جس دل سے گریزاں تھے اسی دل سے ملے
دیکھیے ڈھونڈھ نکالا ہے کہاں سے میں نے
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
عہد میں تیرے ظلم کیا نہ ہوا
خیر گزری کہ تو خدا نہ ہوا
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

