EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہ ابر گھرا جھوم کے رحمت کے دن آئے
پینے کے پلانے کے مسرت کے دن آئے

عزیز حیدرآبادی




وہ سنیں یا نہ سنیں نالہ و فریاد عزیزؔ
آپ ہرگز نہ کریں ترک تقاضا اپنا

عزیز حیدرآبادی




وہ یہ کہہ کر داغ دیتے ہیں مجھے
پھول سے پہلے ثمر آتے نہیں

عزیز حیدرآبادی




زور قسمت پہ چل نہیں سکتا
خامشی اختیار کرتا ہوں

عزیز حیدرآبادی




آئینہ چھوڑ کے دیکھا کئے صورت میری
دل مضطر نے مرے ان کو سنورنے نہ دیا

عزیز لکھنوی




آپ جس دل سے گریزاں تھے اسی دل سے ملے
دیکھیے ڈھونڈھ نکالا ہے کہاں سے میں نے

عزیز لکھنوی




عہد میں تیرے ظلم کیا نہ ہوا
خیر گزری کہ تو خدا نہ ہوا

عزیز لکھنوی