اے سوز عشق پنہاں اب قصہ مختصر ہے
اکسیر ہو چلا ہوں اک آنچ کی کسر ہے
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن
بھولتا ہی نہیں عالم تری انگڑائی کا
عزیز لکھنوی
بنی ہیں شہر آشوب تمنا
خمار آلودہ آنکھیں رات بھر کی
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بتاؤ ایسے مریضوں کا ہے علاج کوئی
کہ جن سے حال بھی اپنا بیاں نہیں ہوتا
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بے خودی کوچۂ جاناں میں لیے جاتی ہے
دیکھیے کون مجھے میری خبر دیتا ہے
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| باہوڈی |
| 2 لائنیں شیری |
دل کے اجزا میں نہیں ملتا کوئی جزو نشاط
اس صحیفے سے کسی نے اک ورق کم کر دیا
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دل کی آلودگیٔ زخم بڑھی جاتی ہے
سانس لیتا ہوں تو اب خون کی بو آتی ہے
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

