EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اے سوز عشق پنہاں اب قصہ مختصر ہے
اکسیر ہو چلا ہوں اک آنچ کی کسر ہے

عزیز لکھنوی




اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن
بھولتا ہی نہیں عالم تری انگڑائی کا

عزیز لکھنوی




بنی ہیں شہر آشوب تمنا
خمار آلودہ آنکھیں رات بھر کی

عزیز لکھنوی




بتاؤ ایسے مریضوں کا ہے علاج کوئی
کہ جن سے حال بھی اپنا بیاں نہیں ہوتا

عزیز لکھنوی




بے خودی کوچۂ جاناں میں لیے جاتی ہے
دیکھیے کون مجھے میری خبر دیتا ہے

عزیز لکھنوی




دل کے اجزا میں نہیں ملتا کوئی جزو نشاط
اس صحیفے سے کسی نے اک ورق کم کر دیا

عزیز لکھنوی




دل کی آلودگیٔ زخم بڑھی جاتی ہے
سانس لیتا ہوں تو اب خون کی بو آتی ہے

عزیز لکھنوی