EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دل نہیں جب تو خاک ہے دنیا
اصل جو چیز تھی وہی نہ رہی

عزیز لکھنوی




دل سمجھتا تھا کہ خلوت میں وہ تنہا ہوں گے
میں نے پردہ جو اٹھایا تو قیامت نکلی

عزیز لکھنوی




دعائیں مانگی ہیں ساقی نے کھول کر زلفیں
بسان دست کرم ابر دجلہ بار برس

عزیز لکھنوی




دنیا کا خون دور محبت میں ہے سفید
آواز آ رہی ہے لب جوئے شیر سے

عزیز لکھنوی




ہائے کیا چیز تھی جوانی بھی
اب تو دن رات یاد آتی ہے

عزیز لکھنوی




حادثات دہر میں وابستۂ ارباب درد
لی جہاں کروٹ کسی نے انقلاب آ ہی گیا

عزیز لکھنوی




ہم تو دل ہی پر سمجھتے تھے بتوں کا اختیار
نسب کعبہ میں بھی اب تک ایک پتھر رہ گیا

عزیز لکھنوی