دل نہیں جب تو خاک ہے دنیا
اصل جو چیز تھی وہی نہ رہی
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دل سمجھتا تھا کہ خلوت میں وہ تنہا ہوں گے
میں نے پردہ جو اٹھایا تو قیامت نکلی
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دعائیں مانگی ہیں ساقی نے کھول کر زلفیں
بسان دست کرم ابر دجلہ بار برس
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| دعا |
| 2 لائنیں شیری |
دنیا کا خون دور محبت میں ہے سفید
آواز آ رہی ہے لب جوئے شیر سے
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہائے کیا چیز تھی جوانی بھی
اب تو دن رات یاد آتی ہے
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
حادثات دہر میں وابستۂ ارباب درد
لی جہاں کروٹ کسی نے انقلاب آ ہی گیا
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہم تو دل ہی پر سمجھتے تھے بتوں کا اختیار
نسب کعبہ میں بھی اب تک ایک پتھر رہ گیا
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

