زمین موم کی ہوتی ہے میرے قدموں میں
مرا شریک سفر آفتاب ہوتا ہے
عزیز بانو داراب وفا
زرد چہروں کی کتابیں بھی ہیں کتنی مقبول
ترجمے ان کے جہاں بھر کی زبانوں میں ملے
عزیز بانو داراب وفا
زندگی بھر میں کھلی چھت پہ کھڑی بھیگا کی
صرف اک لمحہ برستا رہا ساون بن کے
عزیز بانو داراب وفا
زندگی کے سارے موسم آ کے رخصت ہو گئے
میری آنکھوں میں کہیں برسات باقی رہ گئی
عزیز بانو داراب وفا
ہر ایک کے چہرے پہ ہے تشویش نمایاں
بیٹھے ہیں مسیحا ترے بیمار سے لگ کر
عزیز اعجاز
جیسے کوئی روتا ہے گلے پیار سے لگ کر
کل رات میں رویا تری دیوار سے لگ کر
عزیز اعجاز
ایسے بندوں کو جانتا ہوں میں
جن کا واحد علاج مالش ہے
عزیز فیصل

