اک میں کہ ایک غم کا تقاضا نہ کر سکا
اک وہ کہ اس نے مانگ لئے اپنے خواب تک
اظہرنقوی
جمی ہے گرد آنکھوں میں کئی گمنام برسوں کی
مرے اندر نہ جانے کون بوڑھا شخص رہتا ہے
اظہرنقوی
جس رات کھلا مجھ پہ وہ مہتاب کی صورت
وہ رات ستاروں کی امانت ہے سحر تک
اظہرنقوی
کل شجر کی گفتگو سنتے تھے اور حیرت میں تھے
اب پرندے بولتے ہیں اور شجر خاموش ہیں
اظہرنقوی
خوف ایسا ہے کہ ہم بند مکانوں میں بھی
سونے والوں کی حفاظت کے لئے جاگتے ہیں
اظہرنقوی
خواب مٹھی میں لیے پھرتے ہیں صحرا صحرا
ہم وہی لوگ ہیں جو دھوپ کے پر کاٹتے ہیں
اظہرنقوی
کناروں سے جدا ہوتا نہیں طغیانیوں کا دکھ
نئی موجوں میں رہتا ہے پرانے پانیوں کا دکھ
اظہرنقوی

