EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اک میں کہ ایک غم کا تقاضا نہ کر سکا
اک وہ کہ اس نے مانگ لئے اپنے خواب تک

اظہرنقوی




جمی ہے گرد آنکھوں میں کئی گمنام برسوں کی
مرے اندر نہ جانے کون بوڑھا شخص رہتا ہے

اظہرنقوی




جس رات کھلا مجھ پہ وہ مہتاب کی صورت
وہ رات ستاروں کی امانت ہے سحر تک

اظہرنقوی




کل شجر کی گفتگو سنتے تھے اور حیرت میں تھے
اب پرندے بولتے ہیں اور شجر خاموش ہیں

اظہرنقوی




خوف ایسا ہے کہ ہم بند مکانوں میں بھی
سونے والوں کی حفاظت کے لئے جاگتے ہیں

اظہرنقوی




خواب مٹھی میں لیے پھرتے ہیں صحرا صحرا
ہم وہی لوگ ہیں جو دھوپ کے پر کاٹتے ہیں

اظہرنقوی




کناروں سے جدا ہوتا نہیں طغیانیوں کا دکھ
نئی موجوں میں رہتا ہے پرانے پانیوں کا دکھ

اظہرنقوی