EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اب تو مجھ کو بھی نہیں ملتی مری کوئی خبر
کتنا گمنام ہوا ہوں میں نمایاں ہو کر

اظہرنقوی




عجب حیرت ہے اکثر دیکھتا ہے میرے چہرے کو
یہ کس نا آشنا کا آئنے میں عکس رہتا ہے

اظہرنقوی




عجب نہیں کہ بچھڑنے کا فیصلہ کر لے
اگر یہ دل ہے تو نادان ہو بھی سکتا ہے

اظہرنقوی




دل کچھ دیر مچلتا ہے پھر یادوں میں یوں کھو جاتا ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ روتے روتے سو جاتا ہے

اظہرنقوی




دکھ سفر کا ہے کہ اپنوں سے بچھڑ جانے کا غم
کیا سبب ہے وقت رخصت ہم سفر خاموش ہیں

اظہرنقوی




ایک ہنگامہ سا یادوں کا ہے دل میں اظہرؔ
کتنا آباد ہوا شہر یہ ویراں ہو کر

اظہرنقوی




ایک اک سانس میں صدیوں کا سفر کاٹتے ہیں
خوف کے شہر میں رہتے ہیں سو ڈر کاٹتے ہیں

اظہرنقوی