ہائے وہ بھیگا ریشمی پیکر
تولیا کھردرا لگے جس کو
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہم اپنی نیکی سمجھتے تو ہیں تجھے لیکن
شمار نامۂ اعمال میں نہیں کرتے
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہمارے ظاہری احوال پر نہ جا ہم لوگ
قیام اپنے خد و خال میں نہیں کرتے
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ازالہ ہو گیا تاخیر سے نکلنے کا
گزر گئی ہے سفر میں مرے قیام کی شام
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خطوں کو کھولتی دیمک کا شکریہ ورنہ
تڑپ رہی تھی لفافوں میں بے زبانی پڑی
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خود پر حرام سمجھا ثمر کے حصول کو
جب تک شجر کو چھاؤں کے قابل نہیں کیا
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کسی بدن کی سیاحت نڈھال کرتی ہے
کسی کے ہاتھ کا تکیہ تھکان کھینچتا ہے
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

