EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہائے وہ بھیگا ریشمی پیکر
تولیا کھردرا لگے جس کو

اظہر فراغ




ہم اپنی نیکی سمجھتے تو ہیں تجھے لیکن
شمار نامۂ اعمال میں نہیں کرتے

اظہر فراغ




ہمارے ظاہری احوال پر نہ جا ہم لوگ
قیام اپنے خد و خال میں نہیں کرتے

اظہر فراغ




ازالہ ہو گیا تاخیر سے نکلنے کا
گزر گئی ہے سفر میں مرے قیام کی شام

اظہر فراغ




خطوں کو کھولتی دیمک کا شکریہ ورنہ
تڑپ رہی تھی لفافوں میں بے زبانی پڑی

اظہر فراغ




خود پر حرام سمجھا ثمر کے حصول کو
جب تک شجر کو چھاؤں کے قابل نہیں کیا

اظہر فراغ




کسی بدن کی سیاحت نڈھال کرتی ہے
کسی کے ہاتھ کا تکیہ تھکان کھینچتا ہے

اظہر فراغ