EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

منہ زبانی قرآن پڑھتے تھے
پہلے بچے بھی کتنے بوڑھے تھے

محمد علوی




مطمئن ہے وہ بنا کر دنیا
کون ہوتا ہوں میں ڈھانے والا

محمد علوی




نہا کر بھیگے بالوں کو سکھاتی
چھتوں پر لڑکیاں اچھی لگی ہیں

محمد علوی




نیا سال دیوار پر ٹانگ دے
پرانے برس کا کلنڈر گرا

محمد علوی




نظروں سے ناپتا ہے سمندر کی وسعتیں
ساحل پہ اک شخص اکیلا کھڑا ہوا

محمد علوی




آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں
ٹیبل پر سر رکھ کر سو جاتا ہوں میں

محمد علوی




پہلی بوند گری ٹپ سے
پھر سب کچھ پانی میں تھا

محمد علوی