EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سر پر ہوائے ظلم چلے سو جتن کے ساتھ
اپنی کلاہ کج ہے اسی بانکپن کے ساتھ

مجروح سلطانپوری




شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی
کبھی اک چراغ جلا دیا کبھی اک چراغ بجھا دیا

مجروح سلطانپوری




سنتے ہیں کہ کانٹے سے گل تک ہیں راہ میں لاکھوں ویرانے
کہتا ہے مگر یہ عزم جنوں صحرا سے گلستاں دور نہیں

مجروح سلطانپوری




ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے

مجروح سلطانپوری




ترے سوا بھی کہیں تھی پناہ بھول گئے
نکل کے ہم تری محفل سے راہ بھول گئے

مجروح سلطانپوری




تشنگی ہی تشنگی ہے کس کو کہیے مے کدہ
لب ہی لب ہم نے تو دیکھے کس کو پیمانہ کہیں

مجروح سلطانپوری




تجھے نہ مانے کوئی تجھ کو اس سے کیا مجروح
چل اپنی راہ بھٹکنے دے نکتہ چینوں کو

مجروح سلطانپوری