جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلے
جو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے
دیار شام نہیں منزل سحر بھی نہیں
عجب نگر ہے یہاں دن چلے نہ رات چلے
ہمارے لب نہ سہی وہ دہان زخم سہی
وہیں پہنچتی ہے یارو کہیں سے بات چلے
ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے
ہوا اسیر کوئی ہم نوا تو دور تلک
بپاس طرز نوا ہم بھی ساتھ ساتھ چلے
بچا کے لائے ہم اے یار پھر بھی نقد وفا
اگرچہ لٹتے رہے رہزنوں کے ہاتھ چلے
پھر آئی فصل کہ مانند برگ آوارہ
ہمارے نام گلوں کے مراسلات چلے
قطار شیشہ ہے یا کاروان ہم سفراں
خرام جام ہے یا جیسے کائنات چلے
بلا ہی بیٹھے جب اہل حرم تو اے مجروحؔ
بغل میں ہم بھی لیے اک صنم کا ہاتھ چلے
غزل
جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلے
مجروح سلطانپوری