EN हिंदी
میں نے ہر گام اسے اول و آخر جانا | شیح شیری
maine har gam use awwal o aaKHir jaana

غزل

میں نے ہر گام اسے اول و آخر جانا

کوثر نیازی

;

میں نے ہر گام اسے اول و آخر جانا
لیکن اس نے مجھے لمحوں کا مسافر جانا

میں تو تھا اس کے چمن زار محبت کا اسیر
لیکن اس نے مجھے ہر شاخ کا طائر جانا

اس نے اخلاص کے مارے ہوئے دیوانے کو
ایک آوارہ و بد نام سا شاعر جانا

در حقیقت یہی اعزاز بہت ہے کوثرؔ
دو گھڑی اس نے ہمیں اپنا بہ ظاہر جانا