EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جو ہے کعبہ وہ ہی بت خانہ ہے شیخ و برہمن
اس کی ناحق کرتے ہو تکرار دونوں ایک ہیں

جوشش عظیم آبادی




جو ترے سامنے آئے ہیں سو کم ٹھہرے ہیں
یہ ہمارا ہی کلیجہ ہے کہ ہم ٹھہرے ہیں

جوشش عظیم آبادی




خار زار عشق کو کیا ہو گیا
پاؤں میں کانٹے چبھوتا ہی نہیں

جوشش عظیم آبادی




کس طرح تجھ سے ملاقات میسر ہووے
یہ دعا گو ترا نے زور نہ زر رکھتا ہے

جوشش عظیم آبادی




کفر پر مت طعن کر اے شیخ میرے رو بہ رو
مجھ کو ہے معلوم کیفیت ترے اسلام کی

جوشش عظیم آبادی




مونس تازہ ہیں یہ درد و الم
مدتوں کا رفیق ہے غم تو

جوشش عظیم آبادی




ناخن یار سے بھی کھل نہ سکی
دانۂ اشک کی گرہ اے چشم

جوشش عظیم آبادی