EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جھوٹ اور مبالغہ نے افسوس
عزت کھو دی سخنوری کی

اسماعیلؔ میرٹھی




جس نے چشم مست ساقی دیکھ لی
تا قیامت اس پہ ہشیاری حرام

اسماعیلؔ میرٹھی




کبھی بھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا
کہ جو تم سے کوئی کرتا تمہیں ناگوار ہوتا

اسماعیلؔ میرٹھی




کھولا ہے مجھ پہ سر حقیقت مجاز نے
یہ پختگی صلہ ہے خیالات خام کا

اسماعیلؔ میرٹھی




خواہشوں نے ڈبو دیا دل کو
ورنہ یہ بحر بیکراں ہوتا

اسماعیلؔ میرٹھی




کچھ مری بات کیمیا تو نہ تھی
ایسی بگڑی کہ پھر بنی ہی نہیں

اسماعیلؔ میرٹھی




کچھ نہ بن آئے گی جب لوٹ مچائے گی خزاں
غنچہ ہر چند گرہ کس کے زر گل باندھے

اسماعیلؔ میرٹھی