کیا اب بھی مجھ پہ فرض نہیں دوستیٔ کفر
وہ ضد سے میری دشمن اسلام ہو گیا
اسماعیلؔ میرٹھی
کیا فکر آب و نان کہ غم کہہ رہا ہے اب
موجود ہوں ضیافت دل اور جگر کو میں
اسماعیلؔ میرٹھی
کیا ہے وہ جان مجسم جس کے شوق دید میں
جامۂ تن پھینک کر روحیں بھی عریاں ہو گئیں
اسماعیلؔ میرٹھی
کیا ہو گیا اسے کہ تجھے دیکھتی نہیں
جی چاہتا ہے آگ لگا دوں نظر کو میں
اسماعیلؔ میرٹھی
کیا کوہ کن کی کوہ کنی کیا جنون قیس
وادیٔ عشق میں یہ مقام ابتدا کے ہیں
اسماعیلؔ میرٹھی
مانا بری خبر ہے پہ تیری خبر تو ہے
صبر و قرار نذر کروں نامہ بر کو میں
اسماعیلؔ میرٹھی
مر چکے جیتے جی خوشا قسمت
اس سے اچھی تو زندگی ہی نہیں
اسماعیلؔ میرٹھی

