ہمیں میں رہتے ہیں وہ لوگ بھی کہ جن کے سبب
زمیں بلند ہوئی آسماں کے ہوتے ہوئے
افتخار عارف
ہر اک سے پوچھتے پھرتے ہیں تیرے خانہ بدوش
عذاب دربدری کس کے گھر میں رکھا جائے
افتخار عارف
ہر نئی نسل کو اک تازہ مدینے کی تلاش
صاحبو اب کوئی ہجرت نہیں ہوگی ہم سے
افتخار عارف
ہوا ہے یوں بھی کہ اک عمر اپنے گھر نہ گئے
یہ جانتے تھے کوئی راہ دیکھتا ہوگا
افتخار عارف
اک خواب ہی تو تھا جو فراموش ہو گیا
اک یاد ہی تو تھی جو بھلا دی گئی تو کیا
افتخار عارف
اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایا
اس بار تو ہم شہ کے مصاحب بھی نہیں تھے
افتخار عارف
جب میرؔ و میرزاؔ کے سخن رائیگاں گئے
اک بے ہنر کی بات نہ سمجھی گئی تو کیا
افتخار عارف

