کریں تو کس سے کریں نا رسائیوں کا گلہ
سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا
افتخار عارف
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خاک میں دولت پندار و انا ملتی ہے
اپنی مٹی سے بچھڑنے کی سزا ملتی ہے
افتخار عارف
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ
ہم اہل مہر و محبت ہیں دل نکال کے رکھ
افتخار عارف
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں
پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
افتخار عارف
ٹیگز:
| انسان |
| 2 لائنیں شیری |
کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے
عجب کمال ہے اس بے وفا کے لہجے میں
افتخار عارف
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
افتخار عارف
کوئی جنوں کوئی سودا نہ سر میں رکھا جائے
بس ایک رزق کا منظر نظر میں رکھا جائے
افتخار عارف
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

