EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جواب آئے نہ آئے سوال اٹھا تو سہی
پھر اس سوال میں پہلو نئے سوال کے رکھ

افتخار عارف




جو ڈوبتی جاتی ہے وہ کشتی بھی ہے میری
جو ٹوٹتا جاتا ہے وہ پیماں بھی مرا ہے

افتخار عارف




جو حرف حق کی حمایت میں ہو وہ گم نامی
ہزار وضع کے نام و نشاں سے اچھی ہے

افتخار عارف




کاروبار میں اب کے خسارہ اور طرح کا ہے
کام نہیں بڑھتا مزدوری بڑھتی جاتی ہے

افتخار عارف




کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
جہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیا

افتخار عارف




کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیں
نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا

افتخار عارف




کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر
اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں

افتخار عارف