جواب آئے نہ آئے سوال اٹھا تو سہی
پھر اس سوال میں پہلو نئے سوال کے رکھ
افتخار عارف
جو ڈوبتی جاتی ہے وہ کشتی بھی ہے میری
جو ٹوٹتا جاتا ہے وہ پیماں بھی مرا ہے
افتخار عارف
جو حرف حق کی حمایت میں ہو وہ گم نامی
ہزار وضع کے نام و نشاں سے اچھی ہے
افتخار عارف
کاروبار میں اب کے خسارہ اور طرح کا ہے
کام نہیں بڑھتا مزدوری بڑھتی جاتی ہے
افتخار عارف
کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
جہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیا
افتخار عارف
کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیں
نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا
افتخار عارف
کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر
اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں
افتخار عارف

