EN हिंदी
یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں | شیح شیری
yahan se chaaron taraf raste nikalte hain

غزل

یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں

ادریس بابر

;

یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں
ٹھہر ٹھہر کے ہم اس خواب سے نکلتے ہیں

کسی کسی کو ہے تہذیب دشت آرائی
کئی تو خاک اڑاتے ہوئے نکلتے ہیں

یہاں رواج ہے زندہ جلا دیے جائیں
وہ لوگ جن کے گھروں سے دیے نکلتے ہیں

عجیب دشت ہے دل بھی جہاں سے جاتے ہوئے
وہ خوش ہیں جیسے کسی باغ سے نکلتے ہیں

یہ لوگ سو رہے ہوں گے جبھی تو آج تلک
ظروف خاک سے خوابوں بھرے نکلتے ہیں

ستارے دیکھ کے خوش ہوں کہ روز میری طرح
جو کھو گئے ہیں انہیں ڈھونڈنے نکلتے ہیں