EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

خدا جانے کس کس کی یہ جان لے گی
وہ قاتل ادا وہ قضا مہکی مہکی

حسرتؔ جے پوری




کس واسطے لکھا ہے ہتھیلی پہ مرا نام
میں حرف غلط ہوں تو مٹا کیوں نہیں دیتے

حسرتؔ جے پوری




یہ کس نے کہا ہے مری تقدیر بنا دے
آ اپنے ہی ہاتھوں سے مٹانے کے لیے آ

حسرتؔ جے پوری




آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہار حسن
آیا مرا خیال تو شرما کے رہ گئے

حسرتؔ موہانی




آپ کو آتا رہا میرے ستانے کا خیال
صلح سے اچھی رہی مجھ کو لڑائی آپ کی

حسرتؔ موہانی




آرزو تیری برقرار رہے
دل کا کیا ہے رہا رہا نہ رہا

حسرتؔ موہانی




اے یاد یار دیکھ کہ باوصف رنج ہجر
مسرور ہیں تری خلش ناتواں سے ہم

حسرتؔ موہانی