EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اللہ ری جسم یار کی خوبی کہ خودبخود
رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام

حسرتؔ موہانی




بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگا
اب تو اظہار محبت برملا ہونے لگا

حسرتؔ موہانی




بدگماں آپ ہیں کیوں آپ سے شکوہ ہے کسے
جو شکایت ہے ہمیں گردش ایام سے ہے

حسرتؔ موہانی




برسات کے آتے ہی توبہ نہ رہی باقی
بادل جو نظر آئے بدلی میری نیت بھی

حسرتؔ موہانی




بے زبانی ترجمان شوق بے حد ہو تو ہو
ورنہ پیش یار کام آتی ہے تقریریں کہیں

حسرتؔ موہانی




بھول ہی جائیں ہم کو یہ تو نہ ہو
لوگ میرے لیے دعا نہ کریں

حسرتؔ موہانی




چھیڑ ناحق نہ اے نسیم بہار
سیر گل کا یہاں کسے ہے دماغ

حسرتؔ موہانی