EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تا ابد خالی رہے یارب دلوں میں اس کی جا
جو کوئی لاوے مرے گھر اس کے آنے کی خبر

حسرتؔ عظیم آبادی




اٹھوں دہشت سے تا محفل سے اس کی
عتاب اس کا ہے ہر اک ہم نشیں پر

حسرتؔ عظیم آبادی




زاہدا کس حسن گندم گوں پہ ہے تیری نگاہ
آج تو میری نظر میں گونۂ آدم لگا

حسرتؔ عظیم آبادی




زلف کلمونہی کو پیارے اتنا بھی سر مت چڑھا
بے محابا منہ پہ تیرے پاؤں کرتی ہے دراز

حسرتؔ عظیم آبادی




دیوار ہے دنیا اسے راہوں سے ہٹا دے
ہر رسم محبت کو مٹانے کے لیے آ

حسرتؔ جے پوری




ہم راتوں کو اٹھ اٹھ کے جن کے لیے روتے ہیں
وہ غیر کی بانہوں میں آرام سے سوتے ہیں

حسرتؔ جے پوری




جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے
خط کس لئے رکھے ہیں جلا کیوں نہیں دیتے

حسرتؔ جے پوری