تا ابد خالی رہے یارب دلوں میں اس کی جا
جو کوئی لاوے مرے گھر اس کے آنے کی خبر
حسرتؔ عظیم آبادی
اٹھوں دہشت سے تا محفل سے اس کی
عتاب اس کا ہے ہر اک ہم نشیں پر
حسرتؔ عظیم آبادی
زاہدا کس حسن گندم گوں پہ ہے تیری نگاہ
آج تو میری نظر میں گونۂ آدم لگا
حسرتؔ عظیم آبادی
زلف کلمونہی کو پیارے اتنا بھی سر مت چڑھا
بے محابا منہ پہ تیرے پاؤں کرتی ہے دراز
حسرتؔ عظیم آبادی
دیوار ہے دنیا اسے راہوں سے ہٹا دے
ہر رسم محبت کو مٹانے کے لیے آ
حسرتؔ جے پوری
ہم راتوں کو اٹھ اٹھ کے جن کے لیے روتے ہیں
وہ غیر کی بانہوں میں آرام سے سوتے ہیں
حسرتؔ جے پوری
جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے
خط کس لئے رکھے ہیں جلا کیوں نہیں دیتے
حسرتؔ جے پوری

