EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

حیدر علی آتش




نہ جب تک کوئی ہم پیالہ ہو میں مے نہیں پیتا
نہیں مہماں تو فاقہ ہے خلیل اللہ کے گھر میں

حیدر علی آتش




نہ پاک ہوگا کبھی حسن و عشق کا جھگڑا
وہ قصہ ہے یہ کہ جس کا کوئی گواہ نہیں

حیدر علی آتش




نہ پوچھ حال مرا چوب خشک صحرا ہوں
لگا کے آگ مجھے کارواں روانہ ہوا

حیدر علی آتش




پا بہ گل بے خودیٔ شوق سے میں رہتا تھا
کوچۂ یار میں حالت مری دیوار کی تھی

حیدر علی آتش




پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے

حیدر علی آتش




پیام بر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے

حیدر علی آتش